کورونا وائرس: دنیا میں متاثرین کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز کر گئی، اموات ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ
دنیا
بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 21 لاکھ سے تجاوز
کر گئی ہے جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ
میں تین ہفتوں جبکہ ریاست نیویارک میں لاک ڈاؤن 15 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے۔
کورونا کے خلاف لڑنے والوں کی تالیاں بجا کر عزت افزائی
برطانیہ
میں لوگوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تالیںا بجائیں جو
موجودہ بحران میں عوام کی مدد کے لیے پیش پیش ہیں۔ لوگوں نے گھروں کے
دروازوں پر آ کر پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوں، دکانوں پر کام کرنے والوں،
نرسوں سمیت تمام ایسے لوگوں کے لیے تالیاں بجائیں۔
کورونا وائرس کے طبی محاذ پر صف اول کی لڑائی میں شامل طبی اہلکاروں نے بھی خراج تحسین دینے کے اس عمل میں حصہ لیا۔
نرسوں
، ڈاکرز اور پیرا میڈکس نے سرے کے پانچ مختلف ہسپتالوں کے باہر آگر ایسے
تمام لوگوں کے لیے تالیاں بجائیں جو گھروں میں رہ رہے ہیں۔
ساؤتھ
سی کے 94 کیئر ہومز کے لوگوس نے بھی تالیاں بجائیں اور قومی ترانہ گایا۔
انھوں نے ایک گیت گا کر این ایچ ایس اور کئیر ہوم میں ان کا خیال رکھنے
والے افراد کا شکریہ ادا کیا۔
شپلی، یاکشائر میں ایک جوڑے نے اپنے گھر کی دہلیز پر آکر موسیقی بجا کر طبی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔
ایوانکا ٹرمپ نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کیوں کی؟
وائٹ
ہاؤس نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ
کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ ایک ریاست کی حدود سے باہر کیوں گئیں۔ حالانکہ وفاقی
حکومت کا حصہ ہونے کی حیثیت سے وہ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دے رہی
تھیں۔
امریکی
صدر کی بڑی بیٹی اور داماد جیرڈ کوشنر اور ان کے بچے گذشتہ ہفتے نیو جرسی
میں ٹرمپ نیشنل گالف کلب میں یہودی برادری کا تہوار پاس اوور منانے گئے
تھے۔
واشنگٹن
کے میئر کی جانب سے یکم اپریل کو لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے گئے تھے
اور ایوانکا بھی یہیں رہتی ہیں۔ یہاں کے مکینوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ
بغیر انتھائی ضرورت کے گھر سے سفر کے لیے نہ نکلیں۔
ایک
روز پہلے ہی صدر ٹرمپ کی بیٹی نے سماجی رابطوں اپنے ٹوئٹر فالوورز کے نام
پیغام میں کہا کہ ‘وہ بہت خوش قسمت ہیں جو گھر رہ سکتے ہیں، پلیز یہ
کیجیے۔‘
ان کے سفر کے حوالے سے پہلی رپورٹ نیو یارک ٹائمز نے جمعرات کو دی۔ وائٹ ہاؤس نے ایوانکا کے فیصلے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔
امریکی
میڈیا کو دی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ انھوں نے ایک بند/ محفوظ سہولت
جو کہ ان کا خاندانی گھر تصور کیا جاتا ہے کی جانب سفر کیا اور یہ سفر اس
سفر سے مختلف نہیں جو وہ کام کے لیے کرتی رہی تھیں۔
بتایا گیا ہے کہ ان کے گھر کے قرب و جوار میں کم آبادی تھی۔
وائٹ
ہاؤس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوانکا کا سفر کمرشل نوعیت کا نہیں
تھا۔ انھوں نے اپنی چھٹیاں نجی طور پر خاندان کے ہمراہ گزارنے کا سوچا۔






No comments:
Post a Comment